السلام علیکم، میں مہرالنسا قریشی، اور یہ ہے دریا کے اُس پار کی دوسری قسط۔ اگر آپ نے پہلی قسط نہیں سنی تو مہربانی کر کے پہلے وہ سنیں، کیونکہ یہ کہانی ترتیب سے ہی سمجھ آتی ہے۔ جہاں ہم نے چھوڑا تھا، گلی میں ایک افواہ پہنچی تھی اور حکیم صاحب نے رات کو دکان کا تالا دو بار دیکھا تھا۔ آج رات اس دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ سردار جی ہیں، پڑوسی، تیس برس کے دوست، اور ان کے ہاتھ میں ان کے اپنے گھر کی چابی ہے۔ صفیہ صبح ادھوری چٹھی کا پتہ ڈھونڈنے شہر کے دوسرے سرے تک جاتی ہے، اور واپس آ کر دکان میں ایک اجنبی کو بیٹھا پاتی ہے۔ آپ سن رہے ہیں Witspeak Podcasts پر۔ دوسری قسط۔