السلام علیکم، میں مہرالنسا قریشی ہوں اور آپ سن رہے ہیں دریا کے اُس پار، ایک سلسلہ وار کہانی جو میں نے لکھی ہے اور جسے آج سے آپ کے ساتھ سنوں گی۔ یہ پہلی قسط ہے، اس لیے آپ بالکل صحیح جگہ پر ہیں۔ کہانی جون 1947 کے لاہور کی ہے، انارکلی کے قریب ایک تنگ گلی کی، جہاں حکیم صاحب کی کتابوں کی دکان ہے۔ ان کی بیٹی صفیہ دکان کا حساب رکھتی ہے، اور آج ایک پرانے گاہک کی چھوڑی ہوئی ایک ادھوری چٹھی بھی۔ اس گلی میں ابھی سب ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ شام تک ایک افواہ آئے گی جس پر کوئی یقین نہیں کرنا چاہتا۔ پس منظر میں جو آوازیں ہیں وہ اسی گلی میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ آپ سن رہے ہیں Witspeak Podcasts پر۔ پہلی قسط شروع ہوتی ہے۔