السلام علیکم، میں مہرالنساء بخاری اور آپ سن رہے ہیں عشق کی زبان۔ پچھلی قسط میں بلھے شاہ نے اپنی ہر پہچان سے انکار کیا تھا۔ آج ایک ایسا شاعر جس نے ایک ہی نظر میں اپنا سب کچھ ہار دیا اور اسے جیت کہا۔ امیر خسرو، دہلی کے درباری شاعر، سپاہی، موسیقار، اور نظام الدین اولیا کے مرید۔ ان کا کلام چھاپ تلک سب چھینی آپ نے قوالی میں ضرور سنا ہوگا، مگر کیا آپ نے سوچا کہ یہاں چھاپ اور تلک کیا ہیں، اور نیناں ملانے والا کون ہے؟ آج ہم خسرو اور ان کے مرشد کی کہانی سنیں گے، کلام سطر بہ سطر سمجھیں گے، اور ثمینہ، جو ایک ڈاکٹر ہیں، بتائیں گی کہ انہیں اپنا استاد اس کلام میں کیوں دکھائی دیتا ہے۔ آپ سن رہے ہیں Witspeak Podcasts پر۔