السلام علیکم، بلال احمد صدیقی حاضر ہوں اور یہ ہے روز کا اصول۔ آج کی قسط ایک خط سے شروع ہوتی ہے۔ کراچی سے ایک نوجوان نے لکھا کہ وہ غصے میں فیصلے کرتا ہے اور پھر ہفتوں پچھتاتا ہے۔ مجھے یہ خط پڑھ کر 2021 کا ایک دن یاد آیا جب میں نے اپنی پریس کے سب سے اچھے کاریگر کو غصے میں آ کر نکال دیا تھا۔ تین مہینے میں نے اس فیصلے کا نقصان اٹھایا۔ آج میں آپ کو وہ پوری کہانی سناؤں گا، یہ بھی کہ میں نے اس سے معافی کیسے مانگی، اور وہ 24 گھنٹے کا اصول جو میں نے اس دن کے بعد بنایا اور آج تک نہیں توڑا۔ آخر میں اس ہفتے کا ایک کام ہے۔ آپ سن رہے ہیں Witspeak Podcasts پر۔