کراچی سے بول رہی ہوں (Calling From Karachi) artwork
کراچی سے بول رہی ہوں (Calling From Karachi)S1 · E20:4717 plays Preview: first 60 seconds

شادی رات 11 بجے، کھانا 1 بجے

0:00 / 0:47

Sample the first 60 seconds free. Sign up free or log in to hear the whole episode.

RSS
Show notes

شادی رات 11 بجے، کھانا 1 بجے

کارڈ پر لکھا تھا 8 بجے۔ ماہ نور 9 بجے پہنچیں اور ہال خالی تھا۔ دولہا 11 بجے آیا، کھانا 1 بجے کھلا، اور سب سے پہلے پلیٹ اٹھانے والا ایک ایسا بچہ تھا جو کسی کا نہیں تھا۔

  • کارڈ کا وقت، اصل وقت، اور خالہ کا وقت، تینوں الگ
  • کھانا کھلنے کی آواز اور اس کے بعد کا منظر
  • بریانی میں آلو: وہ بحث جس نے دو خاندانوں کو میز پر تقسیم کر دیا
  • بھائی یہ کیا تھا: ایک سامع غلط ہال میں گیا، کھانا کھایا، تحفہ بھی دے آیا
  • ماہ نور کی تجویز کہ کارڈ پر سچ لکھا جائے

اگلی قسط: بجلی کا بل، جس کا انجام کوئی نہیں جانتا۔

Transcript
السلام علیکم، میں ماہ نور صدیقی، اور یہ ہے کراچی سے بول رہی ہوں۔ آج ہم شادی میں جا رہے ہیں۔ کارڈ پر لکھا ہے 8 بجے۔ آپ 9 بجے پہنچتے ہیں، اور ہال میں صرف لائٹ والا ہے اور ایک بچہ جو کسی کا نہیں ہے۔ دولہا 11 بجے آتا ہے، تصویریں 12 بجے تک چلتی ہیں، اور کھانا 1 بجے کھلتا ہے۔ اور جب کھلتا ہے تو وہ آواز آتی ہے، ڈھکن اٹھنے کی، اور پورا ہال ایک ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے جیسے قومی ترانہ بج گیا ہو۔ آج ہم اس پورے واقعے کو دیکھیں گے، بریانی میں آلو والی وہ بحث بھی جس نے میز پر دو خاندان الگ کر دیے، اور ایک سامع کی کہانی جو غلط شادی میں کھانا کھا کر تحفہ بھی دے آیا۔ پلیٹ تیار رکھیں۔ آپ سن رہے ہیں Witspeak Podcasts پر!
Open as text

More from کراچی سے بول رہی ہوں (Calling From Karachi)

S1 · E1Jul 24, 20260:4413 plays Members

رکشے والے کا میٹر اس کی قسمت ہے

ماہ نور رکشے کے کرائے کی پوری سائنس سمجھاتی ہیں، وہ 50 روپے جو ہر سفر میں اوپر لگ جاتے ہیں، اور ایک سامع کی کہانی جس نے کرایہ طے کرنے میں اپنا رشتہ طے کر لیا۔