کراچی سے بول رہی ہوں (Calling From Karachi) artwork
کراچی سے بول رہی ہوں (Calling From Karachi)S1 · E10:4413 plays Members only

رکشے والے کا میٹر اس کی قسمت ہے

0:00 / 0:44

This episode is for members. Sign up free or log in to hear the whole episode.

RSS
Show notes

رکشے والے کا میٹر اس کی قسمت ہے

کراچی میں رکشے کا کرایہ نہ فاصلے سے طے ہوتا ہے، نہ پٹرول سے، بلکہ رکشے والے کے موڈ، آپ کے کپڑوں اور ہوا کے رخ سے۔ ماہ نور اس پورے نظام کو کھول کر رکھ دیتی ہیں۔

  • پہلا سوال، کہاں جانا ہے، اور اس کے بعد والا وقفہ جو سب کچھ بتا دیتا ہے
  • وہ 50 روپے جو آخر میں پٹرول کے نام پر اوپر لگتے ہیں
  • طارق روڈ سے کلفٹن تک کے چار مختلف کرائے، ایک ہی دن میں
  • بھائی یہ کیا تھا: ایک سامع نے کرایہ طے کرتے کرتے ایک رشتہ سن لیا
  • ماہ نور کا طریقہ جو کبھی کام نہیں کرتا

اپنا رکشہ واقعہ وائس نوٹ میں بھیجیں۔

Transcript
السلام علیکم، کیسے ہیں آپ سب۔ میں ہوں ماہ نور صدیقی اور یہ ہے کراچی سے بول رہی ہوں، وہ شو جس میں ہم اس شہر کی ان باتوں پر ہنستے ہیں جن پر رونے کا وقت ہمارے پاس نہیں ہے۔ آج کا موضوع ہے رکشے کا کرایہ۔ آپ رکشے کے پاس جاتے ہیں، کہتے ہیں بھائی کلفٹن، اور وہ آپ کو اوپر سے نیچے دیکھتا ہے۔ آپ کے جوتے دیکھتا ہے۔ آسمان دیکھتا ہے۔ اور پھر ایک ایسا نمبر بولتا ہے جس کا فاصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ میٹر؟ میٹر اس کی قسمت ہے۔ آج ہم اس پوری سائنس کو سمجھیں گے، وہ 50 روپے بھی جو آخر میں پٹرول کے نام پر لگتے ہیں، اور ایک سامع کی کہانی سنیں گے جس نے کرایہ طے کرتے کرتے ایک رشتہ بھی سن لیا۔ سیٹ پکڑ لیں، سڑک خراب ہے۔ آپ سن رہے ہیں Witspeak Podcasts پر!
Open as text

More from کراچی سے بول رہی ہوں (Calling From Karachi)

S1 · E2Aug 31, 20260:4717 plays Preview

شادی رات 11 بجے، کھانا 1 بجے

کراچی کی شادی جس کا کارڈ 8 بجے کہتا ہے اور کھانا 1 بجے کھلتا ہے، بریانی میں آلو پر خاندانی جنگ، اور ایک سامع جو غلط شادی میں کھانا کھا آیا۔